Third Adventure
تیسرا ایڈونچر
1977 میں جس نسل نے پاکستان میں اسلامی نظام کے نفاذ کے لیے تحریک نظام مصطفی میں حصہ لیا تھا۔ ماریں کھائیں تھیں۔ جیلیں کاٹی تھیں۔ موت کو گلے لگایا تھا۔ اپنی زندگیاں، اپنے کاروبار، اپنے خاندان ، اپنی تعلیم برباد کر لی تھی۔ اس تحریک کی اس وقت کی کامیابی کے نتیجے میں بھٹو کی حکومت ختم ھوئ۔ ملک بھر میں اتنا حلوہ تقسیم ھوا ۔ کہ سوجی ختم ھو گئ ۔ اور پھر نتیجہ کیا نکلا ۔ اسلامی نظام تو نافذ نہ ھوا۔ البتہ ملک میں طویل مارشل لاء کا آغاز ھوا۔ بھٹو کو عدلیہ کے ذریعے پھانسی دی گئ۔ نو ستارے مارشل لاء حکومت کا حصہ بنے۔ پھر فارغ ھو کر گھر بیٹھ گئے۔ تحریک کے اصل مقاصد سامنے آے۔ پہلی افغان جنگ کا آغاز ھوا۔ امریکی مفادات پورے کیے گئے۔ جرنیلوں اور ان کی اولادوں نے ڈالروں سے اپنی تجوریاں بھر لیں۔ غریبوں کے لاکھوں بچے مارے گئے۔ ملک میں کلاشنکوف، ھیروئین، دہشت گردی کلچر کی بنیاد رکھی گئی ۔ سیاچن پر بھارت کا قبضہ ھوا۔ غیر جماعتی سیاست کے نام پر سیاست میں کرپشن ، پلاٹ، پرمٹ ، پلازہ اور ایلیکٹ ایبلز کا آغاز ھوا۔ ملک کا انفراسٹرکچر تباہ ھو گیا۔ ترقیاتی کام رک گئے۔ سماج میں مزھبی انتہا پسندی کا آغاز ھوا۔ لاکھوں افغان مہاجر سالوں سے ملک پر بوجھ بن گئے۔
وہ نسل جس نے اس تحریک میں حصہ لیا۔ وہ نسل آج تک ندامت ، شرمندگی اور پچھتاوے کا شکار ھے۔
پھر 1999 میں دوسری افغان جنگ کا آغاز ھوا۔ اب اسے جہاد کی بجائے فساد کا نام دیا گیا۔ پاکستان میں سول حکومت الٹ کر پھر فوجی آمریت مسلط کی گئ۔ کارگل کی جنگ ھار نے والا کمانڈو ملک کا سربراہ بن گیا۔ عدلیہ نے اس آمر کو بغیر مانگے آئین میں ترمیم کا حق دے دیا۔ لوگوں نے پھر سے مٹھائیاں تقسیم کیں۔ پھر سے ڈالروں اور قربانیوں سے فائدہ اٹھایا گیا۔ ملک میں موجود پہلی افغان جنگ کے روگوں میں خود کش حملوں کا اضافہ ھوا۔ لوڈشیڈنگ کا اضافہ ھوا۔ کراچی میں قتل و غارت کا آغاز ھوا۔ بگٹی کو قتل کرکے بلوچستان میں شورش کا آغاز ھوا ۔ اور مٹھائیاں تقسیم کرنے والی نسل ھاتھ ملتی رھ گئ ۔
اور پھر جب تیسری افغان جنگ پلس مڈل ایسٹ کی خانہ جنگی ھمارے دروازوں پر ریالوں، ڈالروں اور اسلحہ سمیت دستخط دے رھی تھی۔ عین اس وقت جب ملک سیاسی، معاشی اور سماجی سطح پر ترقی کر رھا تھا۔ دہشتگردی، لوڈشیڈنگ کا خاتمہ ھو رھا تھا۔ امریکی اور سعودی مفادات پورے کرنے کے لیے ملک میں حکومت کی تبدیلی ضروری ھو گئ۔ اور یہ تبدیلی کرپشن فری نئے پاکستان کے نعرے کی بنیاد پر کی گئی۔ پرانے سیاستدان اب ھاتھ نہیں آ رھے تھے۔ چناچہ نئی بساط بچھائ گئی۔ اس کے حامی بہت پر جوش تھے ۔ انہیں منزل قریب نظر آ رھی تھی۔ اسٹیبلشمنٹ خوش تھی۔ اس کی جان ایک طاقتور ھوتے وزیراعظم سے چھوٹ رھی تھی۔ اور میں یہ سوچ رھا تھا ۔ اگر یہ سب کچھ ھو گیا۔ تو ملک کے لوگوں اور ملک کو اس ایڈونچر کی کیا قیمت چکانا ھو گی ۔ مٹھائیاں بانٹنے والے تو محض ایک بار پچھتائیں گے۔ پچھتا رہے ہیں۔
1977 میں جس نسل نے پاکستان میں اسلامی نظام کے نفاذ کے لیے تحریک نظام مصطفی میں حصہ لیا تھا۔ ماریں کھائیں تھیں۔ جیلیں کاٹی تھیں۔ موت کو گلے لگایا تھا۔ اپنی زندگیاں، اپنے کاروبار، اپنے خاندان ، اپنی تعلیم برباد کر لی تھی۔ اس تحریک کی اس وقت کی کامیابی کے نتیجے میں بھٹو کی حکومت ختم ھوئ۔ ملک بھر میں اتنا حلوہ تقسیم ھوا ۔ کہ سوجی ختم ھو گئ ۔ اور پھر نتیجہ کیا نکلا ۔ اسلامی نظام تو نافذ نہ ھوا۔ البتہ ملک میں طویل مارشل لاء کا آغاز ھوا۔ بھٹو کو عدلیہ کے ذریعے پھانسی دی گئ۔ نو ستارے مارشل لاء حکومت کا حصہ بنے۔ پھر فارغ ھو کر گھر بیٹھ گئے۔ تحریک کے اصل مقاصد سامنے آے۔ پہلی افغان جنگ کا آغاز ھوا۔ امریکی مفادات پورے کیے گئے۔ جرنیلوں اور ان کی اولادوں نے ڈالروں سے اپنی تجوریاں بھر لیں۔ غریبوں کے لاکھوں بچے مارے گئے۔ ملک میں کلاشنکوف، ھیروئین، دہشت گردی کلچر کی بنیاد رکھی گئی ۔ سیاچن پر بھارت کا قبضہ ھوا۔ غیر جماعتی سیاست کے نام پر سیاست میں کرپشن ، پلاٹ، پرمٹ ، پلازہ اور ایلیکٹ ایبلز کا آغاز ھوا۔ ملک کا انفراسٹرکچر تباہ ھو گیا۔ ترقیاتی کام رک گئے۔ سماج میں مزھبی انتہا پسندی کا آغاز ھوا۔ لاکھوں افغان مہاجر سالوں سے ملک پر بوجھ بن گئے۔
وہ نسل جس نے اس تحریک میں حصہ لیا۔ وہ نسل آج تک ندامت ، شرمندگی اور پچھتاوے کا شکار ھے۔
پھر 1999 میں دوسری افغان جنگ کا آغاز ھوا۔ اب اسے جہاد کی بجائے فساد کا نام دیا گیا۔ پاکستان میں سول حکومت الٹ کر پھر فوجی آمریت مسلط کی گئ۔ کارگل کی جنگ ھار نے والا کمانڈو ملک کا سربراہ بن گیا۔ عدلیہ نے اس آمر کو بغیر مانگے آئین میں ترمیم کا حق دے دیا۔ لوگوں نے پھر سے مٹھائیاں تقسیم کیں۔ پھر سے ڈالروں اور قربانیوں سے فائدہ اٹھایا گیا۔ ملک میں موجود پہلی افغان جنگ کے روگوں میں خود کش حملوں کا اضافہ ھوا۔ لوڈشیڈنگ کا اضافہ ھوا۔ کراچی میں قتل و غارت کا آغاز ھوا۔ بگٹی کو قتل کرکے بلوچستان میں شورش کا آغاز ھوا ۔ اور مٹھائیاں تقسیم کرنے والی نسل ھاتھ ملتی رھ گئ ۔
اور پھر جب تیسری افغان جنگ پلس مڈل ایسٹ کی خانہ جنگی ھمارے دروازوں پر ریالوں، ڈالروں اور اسلحہ سمیت دستخط دے رھی تھی۔ عین اس وقت جب ملک سیاسی، معاشی اور سماجی سطح پر ترقی کر رھا تھا۔ دہشتگردی، لوڈشیڈنگ کا خاتمہ ھو رھا تھا۔ امریکی اور سعودی مفادات پورے کرنے کے لیے ملک میں حکومت کی تبدیلی ضروری ھو گئ۔ اور یہ تبدیلی کرپشن فری نئے پاکستان کے نعرے کی بنیاد پر کی گئی۔ پرانے سیاستدان اب ھاتھ نہیں آ رھے تھے۔ چناچہ نئی بساط بچھائ گئی۔ اس کے حامی بہت پر جوش تھے ۔ انہیں منزل قریب نظر آ رھی تھی۔ اسٹیبلشمنٹ خوش تھی۔ اس کی جان ایک طاقتور ھوتے وزیراعظم سے چھوٹ رھی تھی۔ اور میں یہ سوچ رھا تھا ۔ اگر یہ سب کچھ ھو گیا۔ تو ملک کے لوگوں اور ملک کو اس ایڈونچر کی کیا قیمت چکانا ھو گی ۔ مٹھائیاں بانٹنے والے تو محض ایک بار پچھتائیں گے۔ پچھتا رہے ہیں۔
Comments
Post a Comment