Namaz

 


اسلام کی بعض حکمتیں انسانی دماغ میں نہیں آتیں، انسان ان مکلف بھی نہیں ہے، انسانی عقل کو بعض باتیں اپیل نہیں کرتیں مگر انکو ماننا ضروری ہے، حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں دین اگر عقل کے تابع ہوتا تو مسح موزوں کے اوپر کرنے کی بجائے موزوں کے نیچے کیا جاتا، مگر نہیں مسح موزوں کے اوپر ہی کیا جاتا ہے، 


اسلام نے مسلمانوں پر پانچ نمازیں فرض کی ہیں، ان پانچوں کی فرضیت کی حکمت کیا ہے یہ رب جانتا ہے، بعض نمازیں اونچی قرات سے پڑھی جاتی ہیں اور بعض خاموشی سے ادا ہوتی ہیں، 


اگر کوئی شخص یہ سوال کر بھی دے کہ ایسا کیوں ہے تو اسکا ایک ہی جواب ہو سکتا ہے کہ رب کی حکمتوں کو کون جان سکتا ہے ؟ اسکی مرضی وہ نماز میں بلند قرات کی اجازت دے یا خاموشی سے ادائیگی کا حکم دے؟  


لیکن تین نمازوں کی قرات اونچی ہے اور دو کی کم، ایسا کیوں ہے؟  


علماء نے مختلف جوابات دیے 


قرآن میں اللہ تعالی ارشاد فرماتے ہیں 


وَلاَ تَجْهَرْ بِصَلاَتِكَ وَلاَ تُخَافِتْ بِهَا وَابْتَغِ بَيْنَ ذَلِكَ سَبِيلاً


ترجمہ


اور نہ اپنی نماز (میں قرات) بلند آواز سے کریں اور نہ بالکل آہستہ پڑھیں اور دونوں کے درمیان (معتدل) راستہ اختیار فرمائیںo


ہمیں درمیانی راستہ اپنانے کا حکم دیا گیا، علت اسکی یہ ہے شروع میں جب مسلمان نماز پڑھتے تو ساری نمازوں میں اونچی آواز سے قرات کرتے تھے، مسلمانوں کی اونچی آوازوں سے ادائیگی کو  کفار پسند نہیں کرتے تھے، اس وجہ سے وہ مسلمانوں کے قریب آ کر شور شرابہ کرتے، سیٹیاں بجاتے اور مسلمانوں کو نماز ادا نہیں کرنے دیتے۔ بعض اوقات وہ اللہ تعالی کی شان اور حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شان میں نازیبا کلمات بھی کہتے، 


 علماء کرام نے لکھا ہے کہ اس لئے اللہ تعالی نے مسلمانوں کو حکم دیا کہ نہ تو اتنی اونچی آواز سے قرات کریں کہ کفار سن کر بے ادبی وگستاخی کریں اور نہ اتنا آہستہ پڑھیں کہ خود بھی نہ سن سکیں۔ لہذا درمیانی آواز میں قرات کر لیا کریں، 


اسلام فساد سے بچاتے ہوئے مسلمانوں کو نماز کی ادائیگی کا حکم دیتا ہے اب سوال ہو گا کہ فجر مغرب اور عشاء میں اونچی سے آواز سے قرات کیوں جاتی ہے؟  


علماء نے لکھا ہے کہ فجر اور عشاء کے وقت کفار سوئے ہوتے تھے اور مغرب کے وقت کھانے پینے میں مشغول رہتے تھے اس لئے ان تین اوقات میں حکم دیا کہ جہرا ًنماز ادا کی جائے کیونکہ کفار ان اوقات میں کھانے پینے اور سونے میں مشغول ہوتے ہیں مسلمانوں کو تنگ نہیں کر سکتے، لہذا جہرا نماز کا حکم دیا گیا۔ ظہر اور عصر کے وقت کفار دن بھر گھومتے رہتے تھے۔ اس لئے ان نمازوں میں آہستہ آواز سے پڑھنے کا حکم دیا تاکہ کفار مسلمانوں کو تنگ نہ کر سکیں اور قرات کی آواز سن کر سیٹیاں اور شور وغل نہ کر سکیں۔


عبادت میں سکون کے لیے اللہ تعالی نے ان دونوں نمازوں میں قرات کی آواز کم رکھنے کا حکم دیا ہے، 


نماز سکون چاہتی ہے ہم لوگ نماز میں جلدی کرتے ہیں نماز میں جلدی نہیں کرنی چاہیے ، نماز کیسی ہونی چاہیے یہ بھی سن لیں 




ایک مرتبہ رسول اللہ ﷺ نماز کسوف (سورج گرہن کے وقت کی نماز) ادا فرما رہے تھے اور بہت دیر تک قرأت، رکوع اور سجود میں مشغول رہے۔ اسی اثناء میں صحابہؓ نے دیکھا کہ آپﷺ نے ایک بار ہاتھ آگے بڑھایا۔ پھر دیکھا کہ آپﷺ قدرے پیچھے ہٹے۔ بعد میں لوگوں نے دریافت کیا تو فرمایا کہ اس وقت میرے سامنے وہ تمام چیزیں پیش گئیں جن کا تم سے وعدہ کیا گیا ہے۔ جنت اور دوزخ کی تمثیل اسی دیوار کے پاس دکھائی گئی۔ میں نے بہشت کو دیکھا کہ انگور کے خوشے لٹک رہے ہیں، چاہا کہ توڑ لوں۔ اگر میں توڑ سکتا تو تم تاقیامت اس کو کھا سکتے تھے۔ پھر میں نے دوزخ کو دیکھا جس سے زیادہ کوئی بھیانک چیز میں نے آج تک نہیں دیکھی۔

 

حضرت ابوبکرصدیقؓ جب نماز قائم کرنے کے لئے کھڑے ہوتے تھے تو ان کے اوپر شدت سے رقت طاری ہو جاتی تھی اور گداز سے معمور فضا میں غیر مسلم عورتیں اور بچے بھی رونے لگتے تھے۔



سبحان اللہ 


ایسی ہوتی ہے نماز!  نماز میں خیال کرنا چاہیے نماز کے متعلق بڑی احادیث ہیں، کتب حدیث دیکھیں تو ہمیں علم ہو گا کہ نماز کی کتنی اہمیت ہے 

پیارے ساتھیو 


احادیث میں نماز کے حوالے سے چند احکامات موجود ہیں جنہیں سن کر ہم اپنی زندگی بدل سکتے ہیں 


بخاری شریف کی روایت ہے 


حضرت ابوہریرہ ؓکہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: دیکھو! اگر کسی کے گھر کے سامنے ایک نہر بہتی ہو جس میں وہ روزانہ پانچ بار نہاتا ہو تو کیا جسم پہ کوئی میل کچیل باقی رہے گی؟ صحابہ نے عرض کیا: نہیں۔ اس کے جسم پر کوئی میل باقی نہیں رہے گی۔ آپ ؐ نے فرمایا: یہ پانچ نمازوں کی ادائیگی کی مثال ہے کہ جو ان کی ادائیگی کرے گا اللہ تعالیٰ اس کے گناہوں کو صاف کر دے گا۔ 


رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تک کوئی اپنی نماز کی جگہ وضو کی حالت میں بیٹھا رہتا ہے تو فرشتے اس کے لیے دعا کرتے رہتے ہیں: یااللہ! اس کی مغفرت فرما اور اس پر رحم فرما ۔


بخاری شریف کی روایت ہے 


رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے جو بھی جب بھی حالتِ نماز میں ہوتا ہے تو وہ اس وقت اپنے رب کے ساتھ حالتِ مناجات میں ہوتا ہے


ترمذی شریف کی روایت ہے 


حضرت معاذ بن جبلؓ کہتے ہیں، رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا میں تمھیں اسلام کے راس العمل اور اس کے ستون اور چوٹی کے عمل کے بارے میں نہ بتا دوں؟ میں نے عرض کیا: ضرور یارسول اللہﷺ! تو آپؐ نے فرمایا: راس الامر پورا دین اسلام ہے۔ نماز دین کا ستون ہے اور چوٹی کا عمل جہاد ہے


بخاری و مسلم شریف کی روایت ہے 


حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالی عنہما فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہﷺ کو فرماتے ہوئے سنا:

    ’’تم سب ذمہ دار ہو اور تم سب سے تمہارے ماتحت لوگوں کے سلسلہ میں بازپرس ہوگی ۔‘


ابو داود شریف کی روایت ہے 


حضرت عبد اللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:

    ’’ اپنے بچوں کو 7سال کی عمر میں نماز کا حکم کرو ،10 سال کی عمر میں نماز نہ پڑھنے پر انہیں مارو۔ 

 


    حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ میں ایک رات اپنی خالہ حضرت میمونہ رضی اللہ عنہاکے گھر تھا۔ شام میں حضوراکرمﷺ تشریف لائے تو آپﷺ نے دریافت کیا کہ لڑکے نے نماز پڑھ لی، تو لوگوں نے کہا جی یا رسول اللہ ہم نے نماز پڑھ لی 

 


حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ حضور ﷺہم س باتیں کرتے تھے اور ہم حضور سے باتیں کرتے تھے لیکن جب نماز کا وقت آجاتا تو آپ ﷺایسے ہوجاتے گویا ہم کو پہچانتے ہی نہیں اور ہمہ تن اللہ کی طرف مشغول ہوجاتے۔ 


بخاری شریف کی روایت ہے 


حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے دریافت کیا کہ اللہ کو کونسا عمل زیادہ محبوب ہے؟ آپﷺ نے ارشاد فرمایا: نماز کو اس کے وقت پر ادا کرنا۔ حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے کہا کہ اس کے بعد کونسا عمل اللہ کو زیادہ پسند ہے؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا: والدین کی فرمانبرداری


پیارے ساتھیو 


اللہ سے دعا کرنی چاہیے کہ اللہ تعالی ہمیں نماز پڑھنے کی توفیق عطا فرمائے آمین یا رب العالمین 


ہم امید کرتے ہیں کہ آپ کو ہماری یہ ویڈیو ضرور پسند آئی ہو گی اگر آپ کو ہماری یہ ویڈیو پسند آئی ہے تو ہمارے چینل سپریڈ نالج کو ضرور سبسکرائب کریں اور ساتھ ہی بل کے بٹن کو بھی پریس کریں، ان شاء اللہ ہم ایک نئی ویڈیو کیساتھ حاضر ہوتے ہیں تب تک کے لیے اللہ حافظ


Comments

Popular posts from this blog

All India Radio Vs Radio Pak

Pakistan Broadcasting Corporation policy and objectives