Just for Fun
#بیحیائی
کتنا مزہ آئے کہ میں رشتہ دیکھنے لڑکوں کے گھر جائوں ۔ لڑکا چائے کی ٹرے میرے سامنے رکھے اور سر جھکا کے بیٹھ جائے لڑکے کی ماں امید بھری نظروں سے مجھے دیکھے اور میں لڑکے کا معائنہ کروں کہ پائوں تو کالے نہیں ہیں ۔ ہاتھ صاف ہیں یا نہیں ۔ نقص نکالوں کہ لڑکے کا رنگ گورا نہیں ہے اور بنا کچھ کہے گھر آجائوں ۔ لڑکا اپنی مٹھیاں بھینچ کے رہ جائے اور لڑکے کی ماں ناامیدی سے سوچے کہ اپنا سانولا رنگ نہیں دیکھتی اور شادی کے انتظار میں بیٹھے میرے بیٹے کو مزید مایوس کردیا ۔
کتنا مزہ آئے کہ میں مطلوبہ جہیز ناں ملنے پہ لڑکے والوں کو ٹارچر کروں ۔رخصتی کے وقت فرنٹ سیٹ پہ بیٹھوں اور لڑکا سر جھکائے گاڑی میں پیچھے میری ماں اور بھائی کے ساتھ بیٹھ کے بار بار پیچھے مڑ کے اپنے گھر والوں کو دیکھے اور اپنے آنسو صاف کرتا آئے ۔
کتنا مزہ آئے کہ میں شادی کے بعد بھی دوسرے لڑکوں کو تاڑوں ۔ جہاں چار چھ لڑکے دیکھوں ان کے برابر سے گزرتے ہوئے انکے کولہوں پہ ہاتھ پھیر کے آگے نکل جائوں اور وہ لڑکے سر جھکا کے اندر ہی اندر سہم جائیں ۔
کتنا مزہ آئے کہ میں رکشہ چلائوں اور رکشے میں اندر ڈھیروں ڈھیر آئینے لگے ہوں ۔پیچھے سواری لڑکوں کی ہو ۔ میں آئینوں سے لڑکوں کے عکس کو دیکھ کے مزہ لوں اور لڑکے آنکھیں چرا کے باہر ٹریفک کو دیکھنے لگ جائیں ۔
کتنا مزہ آئے کہ لڑکے کالج سے نکل کے تیز تیز قدم اٹھاتے گھر کی جانب رواں دواں ہوں اور میں بائک پہ انکے برابر سے گزرتے ہوئے جملہ کس کے جائوں ۔
کتنا اچھا لگے کہ یہی لڑکے رات کے وقت جب سب گھر والے سوئے ہوں تو یہ اپنی چارپائی پہ لیٹے آنسو بہا رہے ہوں اور اپنی سسکیاں اپنے باپ سے چھپا رہے ہوں لیکن پتہ چلے کہ ابا خود اپنی چارپائی پہ اپنے آنسو پونچھ رہا ہو کیونکہ ْْآج ہی ایک آنٹی ابے کی کمر پہ چٹکی کاٹتے ہوئے گزر گئی تھی اور ابا نے سر جھکانے میں ہی عافیت جانی ہو
Comments
Post a Comment