Live with Respect

 عزت کے ساتھ جیو۔


مجھے ضیاء شاہد کی ایک ڈائجسٹ میں آج سے تقریبا 20 سال پہلے کی ایک بات بہت پیاری لگ رہی ہے۔ اور دل پر لکھی ہوئی تحریر کی طرح۔ چھپی ہوئی ہے۔

وہ لکھتا ہے کہ ایک دفعہ پنجاب کے دور دراز علاقے سے ایک بندہ میرے پاس میرے آفس آیا اور کہاں کہ مجھے اپنے اخبار میں فلاں جگہ کا رپورٹر لگاو۔ ضیاء شاہد لکھتا ہے کہ میں نے اسے کہاں کہ ھم کسی رپورٹر کو تنخواہ نہیں دیتے کیوں کہ ھمارے وسائل اتنے نہیں۔  ضیاء شاہد مزید لکھتا ہے کہ  میں اسکا جواب سن  کر ہکا بکا رہ گیا۔ جب اس نے کہاں کہ آپ کو مجھے تنخواہ دینے کی کوئی ضرورت نہیں ۔ بس آپ اپنی اخبار "" روزنامہ خبریں "" میں   مجھے فلا علاقے کے لئے اپنا نمائندہ مقرر کرے۔ میں ہر مہینے  مناسب رقم آپ کو بھیج دیا کرونگا۔ ضیاء شاہد لکھتا ہے کہ میں نے پوچھا کہ آپ اتنی رقم کیسے کمائینگے  تو اسنے جواب میں کہاں کہ آپ کو فکر کرنے کی ضرورت نہیں۔ ضیاء شاہد لکھتا ہے کہ میں سمجھ گیا کہ وہ کس قسم کے رپورٹر کے طور کام کرے گا۔ 

  آج 20 سال  بعد جب میں  صحافت اور صحافیوں کی طرز زندگی پر نظر ڈالتا ہوں تو بہت سارے سوالوں کے جوابات عملی طور پر مل جاتے ہیں۔  گذارش اتنی سی ہے کہ جتنا جینا ہے عزت کے  ساتھ جیو۔

Comments

Popular posts from this blog

All India Radio Vs Radio Pak

Pakistan Broadcasting Corporation policy and objectives