Hijaab is our Culture

 چند دن پہلے گلگت بلتستان کے لوگوں کی طرف سے ایک شاہراہ پر لگائے گئے ایک بِل بورڈ نے ذہن کو معطر سا کر دیا

 سکارف میں ملبوس ایک تصویر کے نیچے لکھا تھا

“ حجاب ہماری تہذیب ہے، اسکا احترام کرکے اپنے احترام میں اضافہ کیجئے۔

پاکستان کی کسی شاہراہ پر ایک مدت بعد اس طرح کا مثبت پیغام دیکھ کر بے پناہ خوشی اور خوشگوار حیرت ہوئی۔ پھر یاد آیا آج سے کئی سال پہلے میں نے امریکہ کی ایک بڑی شاہراہ پر وہاں کی ایک مسلم تنظیم اِکنا (ICNA) کی طرف سے ایک بل بورڈ پر  ایسا ہی ایک خوبصورت پیغام درج دیکھاتھا۔

“HIJAB is the dress of Marry”

“حجاب تو حضرت مریم کا لباس ہے”

عیسائی دنیا میں حضرت مریم کی جتنی شبیحیں بنائی جاتی ہیں سب ہی باحجاب ہوتی ہیں ۔

اُن معاشروں میں جہاں اب برہنگی ہی کو لباس سمجھا جانے لگا ہے۔ ایسے اشتہارات بہت سی نظروں کو اپنی طرف متوجہ کرتے، دلوں کو چُھوتےاور انہیں کچھ سوچنے پر مجبور کرتے ہیں۔

ابھی میں گلگت بلتستان کے اس خوبصورت اشتہار کی چاشنی سے لطف اندوز ہو ہی رہا تھا کہ ایک اور خبر ، ایک اور ویڈیو دیکھنے کو ملی اور پھر

“جیسے ویرانے میں چپُکے سے بہار آجائے”

ترکی کے صدر طیب اروگان ،امریکی صدر جو بائیڈن سے سوئیزر میں ملاقات کر رہے تھے۔ ملاقات میں ایک خاتون جس نے بہت سلیقے سے اپنا سر سکارف سے ڈھانپ رکھا تھا، دونوں صدور کے درمیان ترجمانی کے فرائض انجام دینے میں مشغول تھی۔

سکارف پہنے، دونوں صدور کے درمیان ترجمانی کرتی ہوئی اس خاتون کا پس منظر بہت ہی دلچسپ ہے  1988 میں نجم الدین اربکان انتخاب جیت کر ترکی کے وزیر اعظم بنے۔ ترکی کا دستور سیکولر تھا اور ترکی فوج اس دستور کی خود ساختہ نگہبان تھی ۔ پارلیمنٹ میں ماروی نامی ایک ایسی خاتون بھی منتخب ہو کر آئیں جو سکارف کو مسلم شناخت سمجھ کر اوڑھا کرتی تھیں۔ سیکولر فوج مشتعل ہوئی ، وزیر اعظم کو معزول کر دیا گیا اور ماروی کی نا صرف پارلیمنٹ کی رکنیت ختم کر دی گئی بلکہ اس کی شہریت بھی ختم کر کے اسے جلا وطن کر دیا گیا۔ ماروی صاحبہ نے یو ایس اے میں سیاسی پناہ لے لی۔ پھر وہاں کے قیام کے دوران ایک ترک تاجر سے شادی کی اور کئی سال بعد اس شادی کی بنیاد پر  اپنے ہی ملک ترکی کی دوبارہ شہریت حاصل کرنے میں کامیاب ٹھہری۔ امریکی قیام کے دوران محترمہ ماروی کے ہاں ایک لڑکی پیدا ہوئی۔جس کے لئے اچھی تعلیم کے ساتھ ساتھ اچھی اخلاقی تربیت کا اہتمام بھی کیا گیا۔ بیٹی نے بڑے ہو کر امریکہ کی جارج واشنگٹن یونیورسٹی سے ماسٹر ڈگری حاصل کی مگر والدہ کی دی گئی تربیت اور  سکارف  کو زندگی بھر کا شعار بنا لیا۔  تین دہائیاں قبل سکارف اُورڑھنے کے جرم میں جسےپارلیمنٹ کی رکنیت اور اپنے ہی وطن کی شہریت سے ہاتھ دھونا پڑے اسے اللہ نے وفا اور حوصلے کا یہ پھل دیا کہ اس کی  بیٹی کو نہ صرف ترکی اور امریکی صدور کا ترجمان بنا دیا بلکہ اسے اور اس کی بیٹی کو مسلم خواتین کا سمبل اور آئی کان (icon) بھی بنا دیا۔

ہم جس دنیا میں زندہ ہیں وہاں ، جہاں بادِ نسیم کے خوشگوار جھونکے ہمیں  چھُو کر گزرتے ہیں وہاں بادِ سموم کے گرم تھپیڑے بھی کبھی کبھار برداشت کرنے کو ملتے ہیں۔

              ابھی میں اِن بِل بورڈ ز اور ویڈیو کے مسرور کُن لمحوں سے لطف اندوز ہونے میں مگن تھا کہ بادِ سموم کا ایک گرم تھپیڑا بھی پاس سے گزرتا نظر آیا۔


وزیر اعظم عمران خان نے ایک مغربی اخبار کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا

“ مرد روبوٹ نہیں ہوتے، خواتین کا لباس مختصر ہو گا تو  جذبات میں ہیجان ایک فطری عمل ہو گا” 

ایک طوفان کھڑا ہو گیا۔

سینیٹر شیریں رحمان سے لیکر لفٹ اور لبرلز کی ترجمانی کرنے والوں نے چیخ چیخ کر آسمان سر پہ اُٹھا 

لیا

بی بی سی تو ایسی بحثوں کو نمک مرچ لگا کر پیش کرنے کے لئے ہمیشہ سے موجود ہی رہتی ہے۔ جنسی غلاظتوں کے متعفن گٹر سے ڈھکن اُٹھا اُٹھا کر سب کو دکھانے پر بی بی سی کا کوئی ثانی نہیں۔

  اس بات سے قطع نظر کہ عمران خان کے جملے کی ساخت کیسی تھی اور کیا یہ جملہ اس سے بہتر شکل میں اظہار پا سکتا تھا یا نہیں ،    

 ہمارا موضوع تو حیا اور حجاب کے پس منظر میں  وہ  ذہنی آوارگی ہے، جسے عورت کی حساسیت سے منسوب کر دیا گیاہے۔

  سچی بات تو یہ ہے کہ تہذیبوں کی موجودہ کشمکش میں مغرب کی غالب تہذیب عورت ہی کو بطور ہتھیار استعمال کرتی ہے اور پلٹ کرعورت ہی  پر مہلک وار بھی کرتی  رہتی ہے۔

  اس خوفناک تہذیبی جنگ میں  عورت کےلباس کی اختصار نویسی کو  اختیار وآزادی  کی علامت بنا کر  پیش کرنے کے لئے کھربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کی جارہی ہے۔ پرنٹ، الیکٹرانک اور سوشل میڈیا کی ساری توانائیاں اسی ایک کام پہ جھُونکی جا رہی ہیں ۔ اندر سے بد شکل مگر باہر سےخوبصورت چہرے ڈھونڈ ڈھونڈ کر نکالے جاتے اور ان کے خال و خد کو مزید پالش کرکے جس طرح پیش کیا جاتا ہے اس کے زہر آلود نتائج خود مغرب بھی بُری طرح محسوس کر رہا ہے۔ 

بے حجابی اور لذت نگاہی بھی ہر دوسرے نشہ کی طرح  ایک نشہ ہے اور جیسے “تھوڑی سی پینے والے” پھر “تھوڑی سی” پر رُک نہیں پاتے اور بالآخر نشہ کلینکس کی قطار میں جا لگتے ہیں، اُسی طرح بے حجابی و لذت نگاہی کے نشئی بھی اپنے ایسے ہی انجام کو پہنچ جاتے ہیں۔

 حجاب اور حیا لازم و ملزوم ہیں اور ہر اس شخص کو جو خدا پرست تہذیب کو عام کرنے پہ ایمان رکھتا ہو اسے چاہئے کہ وہ  بے حجابی و بے حیائی کی تہذیب کی جدید شکلوں کو پوری طرح سمجھے، اور سیاسی و گروہی جکڑ بندیوں سے بالا تر ہو کر ایک بڑی صف بندی کے لئے خود کو شعوری طور پر آمادہ و تیار کرے۔

        تہذیبی جنگ سیاسی محاذ آرائی کی تنگ گلیوں میں لڑنا ممکن  نہیں۔ اس کے لئے بڑے بڑے ملکی و بین الاقوامی اتحاد (الائنس) بنانا ہونگے۔ اس جنگ کے جانثاروں کو نئے اور پیچیدہ مسائل سے روشناس ہونا ہوگا۔ 

یہ جنگ سکولوں اور کالجوں میں لڑی جانی ہے۔ ہسپتالوں اور ایر پورٹس کے ماحول کو جان کرلڑی جانی ہے ۔ فوج اور پولیس کی ضرورتوں اور تقاضوں کو سمجھ کر لڑی جانی ہے۔ 

     انہیں بیت الخلاء کے دور سے نکال کر خلائی دور کے تقاضوں سے روشناس کروا کے لڑی جانی ہے  اور اِس جنگ کے سپاہیوں کو ابلاغ کی نئی ٹکنالوجی اور تکنیکی صلاحیتوں سے لیس ہوکر یہ جنگ  لڑنا ہو گی ۔

 کم لوگ جانتے ہیں کی ہمارے رب نے ،جو سب سے اہم کام ہمارے سپرد کیاہے  وہ  “بلاغِ مبین” ہے۔

• ایسا ابلاغ جو ہر صاحبِ شعور کو اپنی طرف متوجہ کرے۔

• ایسا ابلاغ جو وقت کے تقاضوں پہ پورا اترے۔

• ایسا ابلاغ جو دشمن کے رسّی نما سانپوں کو اژدھا بن کر نِگل جائے۔

• اور ایسا ابلاغ جو

   “وما علینا الا البلاغ المبین”

کہلانے کے پوری طرح قابل ہو۔

Comments

Popular posts from this blog

All India Radio Vs Radio Pak

Pakistan Broadcasting Corporation policy and objectives