Bank loans in Pakistan
پاکستان میں بااثر افراد حکومت کی ملی بھگت سے بینکو سے بڑے بڑے قرضے لیتے ہیں اور پھر انہیں معاف کرا لیتے ہیں۔ غریب عوام کا پیسہ سیاست دانوں اور رئیسوں کو منتقل کرنے کا یہ نہایت ہی بھونڈا طریقہ ہے۔
1971ء سے 1991ء تک2.3 ارب روپے معاف کرائے گئے۔
پھر 32 برسوں کے دوران 988 سے زائد کمپنیوں اور شخصیات نے چار کھرب 30 ارب چھ کروڑ روپے سے زائد کے قرضے معاف کرائے ہیں۔ ایک ارب روپے سے زائد قرض معاف کرانے والی کمپنیوں اور شخصیات کی تعداد 19 ہے۔
فہرست کے مطابق 1990 سے 2015 تک قرضے معاف کروائے گئے ہیں۔ قرض معافی کے معاملے میں عبداللہ پیپرز پرائیویٹ لمیٹڈ نے سب کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ جس نے 2015 میں ایک کھرب 54 ارب 84 کروڑ 73 لاکھ روپے کے قرضے معاف کرائے ہیں۔
مہران بینک اسکینڈل کے مرکزی کردار یونس حبیب نے 1997 میں دو ارب 47 کروڑ روپے معاف کرائے ہیں۔ ریڈ کو ٹیکسٹائل کے مالک اور سابق چیئرمین احتساب بیورو سیف الرحمان خان نے 2006 میں ایک ارب 16 کروڑ 67 لاکھ روپے معاف کرائے۔
فوجی سیمنٹ نے 2004 میں پانچ اربئ روپے سے زائد کا قرضہ معاف کرایا جب کہ سپیریئر ٹیکسٹائل ملز پرائیویٹ لمیٹڈ نے 24 کروڑ 75 لاکھ روپے کے قرضے معاف کرائے۔
رپورٹ کے مطابق سابق رُکن قومی اسمبلی سردار جعفر خان لغاری کی چوٹی ٹیکسٹائل ملز نے 2008 میں 30 کروڑ روپے کے قرضے جب کہ سابق اسپیکر قومی اسمبلی فہمیدہ مرزا کی مرزا شوگر ملز نے 2007 میں سات کروڑ روپے کا قرضہ معاف کروایا۔
2002 میں صادق ٹیکسٹائل ملز نے پانچ کروڑ روپے سے زائد کا قرضہ معاف کروایا تھا جن کے مالکان میں تحریک انصاف کی رکن قومی اسمبلی شیریں مزاری بھی شامل ہیں۔
2003ء اٹھارہ ارب روپے کے قرضے معاف کرانے والوں میں گجرات کے چودھری شجاعت حسین بھی شامل ہیں۔
2009ء میں نواز شریف، شہباز شریف، حمزہ شہباز اور دیگر فیملی ممبران نے 1998ء سے اب تک نو بنکوں کا 30 ارب روپے کا قرضہ واپس نہیں کیا جو اتفاق فاؤنڈری کے نام پر تھا.
نواز شریف نے وزیر اعظم بننے کے بعد قوم سے جذباتی تقریر کرتے ہوئے ’قرض اتارو ملک سنوارو‘ کے نام پر اتفاق فاؤنڈری کا سکریپ نو بنکوں کے حوالے کر دیا کہ وہ سب مل کر اسے بیچ کر اپنے پیسے پورے کر لیں۔ جونہی نو بنک اس سکریپ جائیداد کا قبضہ لینے پہنچے تو شریف فیملی کے ایک رشتہ دار‘ جو اتفاق کے بورڈ کے ممبر تھے‘ نے لاہور ہائی کورٹ میں مقدمہ کر دیا کہ یہ متنازعہ جائیداد ہے اور اسے بنکوں کو نہیں بیچا جا سکتا۔
Comments
Post a Comment