Natural Resources in Afghanistan
افغانستان میں موجود ہزاروں ارب ڈالرز کے قدرتی وسائل !
ایک ناقابل یقین رپورٹ جو 2010 میں امریکی فوجی ماہرین اور ماہرین ارضیات کی جانب سے سامنے آئی کے مطابق افغانستان میں تقریبا ایک ٹریلین امریکی ڈالر کی مالیت کے معدنی وسائل موجود ہیں، جبکہ بعض یورپی ممالک کے رپورٹس کے مطابق یہ سات ٹریلین کے قریب ہیں۔ ان وسائل میں لوہا، تانبا، لیتھیم ، کوبالٹ اور دیگر نایاب معدنی ذخائر شامل ہیں۔ واضح رہے کہ لیتھیم توانائی کو محفوظ بنانے کا انتہائی ماحول دوست دھات ہے ۔ بدحال مفلوک الحال افغانستان کے لوگ کے لئے گزشتہ چار دھائیوں سے مسلسل پرتشدد کارروائیوں کی وجہ سے یہ وسائل بے فائدہ اور اگر یہ کہا جائے کہ باعث پریشانی رہے ہیں تو بے جا نہ ہوگا ۔ تاہم اب گزرتے وقت کے ساتھ ساتھ ان معدنی وسائل کی قیمت میں بھی اضافہ ہورہا ہے۔ 2017 میں افغان حکومت کی ایک رپورٹ میں اندازہ لگایا گیا تھا کہ ملک کی معدنی دولت کی مالیت تین ٹریلین ڈالرز تک پہنچ چکی ہے، جس میں فوسل فیول یعنی قدرتی ایندھن بھی شامل ہے۔اس کے علاوہ پینٹاگون نے افغانستان کو لیتھیم کا سعودی عرب قرار دے رکھا ہے اور پیش گوئی کی تھی کہ اس شورش زدہ ملک میں لیتھیم کے ذخائر بولیویا کے برابر ہوسکتے ہیں۔ لیھتیم الیکٹرک کاروں، اسمارٹ فونز اور لیپ ٹاپ کی بیٹریوں اور سولر کے ذریعے توانائی کو محفوظ بنانے کے لکام میں استعمال ہوتا ہے۔ جس کی وجہ سے اس کی مانگ میں سالانہ بیس فیصد تک اضافہ ہورہا ہے۔ذرائع کے مطابق مستقبل میں افغانستان کی معدنی دولت کا ایک چوتھائی سے زیادہ حصہ تانبے کی کان کنی کی سرگرمیوں کو بڑھانے سے حاصل کیا جاسکتا ۔ یہ رپورٹس ایک ایسے وقت سامنے آئی ہیں، کہ جب افغانستان پر طالبان کو مکمل کنٹرول حاصل ہو چکا ہے ۔یعنی طالبان ایک ایسے ملک پر حکومت کرنے جا رہے ہیں ۔ جہاں ایسے قیمتی قدرتی معدنیات موجود ہیں، جس کی مالیت سگت ہزار ارب ڈالرز سے زیادہ ہے ۔ان وسائل سے نہ صرف پڑوسی ممالک بلکہ عالمی طاقتوں کی معیشت کو غیر معمولی ترقی د ی جاسکتی ہے ۔یعنی اس وقتطالبان کو دنیا کی بڑی طاقتوں کے ساتھ تعلقات قائم کرنے میں ایک بہت بڑی مالی اور جیو پولیٹیکل برتری حاصل ہو چکی ہے۔اس وقت چین افغانستان میں خصوصی دلچسپی لے رہا ہے اور وہ واخان کے راستے برائے راست افغانستان تک تقریبا پہنچ چکا ہے ۔ جبکہ پاکستان کو ان وسائل سے استفادہ کرنے سے روکنے کیلئے بڑے پیمانے پر بین الاقوامی سطح پر بھی منصوبہ بندی جاری ہے ۔ واضح رہے ک اس وقت اسی فیصد طالبان میں پاکستان کے حوالے سے تحفظات پیدا کر دئیے گئے ہیں ۔ سرحد سے باڑ کو اکھاڑ نا اور بیس سال تک جنگ لڑنے کے اعلانات اس سلسلے کی ایک کڑی ہے ۔ان لڑانے والی قوتوں میں پاکستان کے دوست ممالک بھی شامل ہوسکتے ہیں ،جو ڈیورنڈ لائن کا مسئلہ تیزی کے ساتھ کھڑا کرینگے ۔ جہاں تک چین کا تعلق ہے تو وہ پہلے ہی افغانستان میں سب سے بڑا غیر ملکی سرمایہ کار ہے۔ بیجنگ حکومت کو اپنے ملک میں معدنیات کی ضرورت پورا کرنے کے لیے نئے وسائل درکار ہیں۔ اس لیے قوی امکان ہے کہ وہ افغانستان میں کان کنی کا موثر نظام تعمیر کرنے کے سلسلے میں مدد فراہم کرنے میں اہم کردار ادا کرے۔ کیونکہ چین ہی افغانستان میں ان معدنیات کی کان کنی کے لیے بہترین پوزیشن رکھتا ہے۔جس کی مثال یہ کہ ایشیا میں کان کنی کی سب سے بڑی کمپنی میٹالرجیکل کارپوریشن آف چائنا کے پاس پہلے ہی افغانستان کے صوبے لوگر میں تانبے کی کان کنی کے لیے تیس سال کا ٹھیکہ موجود ہے۔اس سلسلے میں سب سے اہم بات یہ کہ طالبان کی اعلی سطحی قیادت نے حال ہی میں چینی وزیر خارجہ سے بھی ملاقات بھی کی تھی۔ جبکہ چین اس وقت پاکستان سے نالاں بھی نظر آرہا ہے ۔طالبان کے سیاسی امور کے سربراہ ملا عبدالغنی برادر کے بقول چین مستقبل میں افغانستان کی تعمیر نو اور اقتصادی ترقی میں اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔ جواب میں بیجنگ حکومت نے کہا کہ وہ افغانستان کے نئے حکمرانوں کے ساتھ ''دوستانہ اور تعاون پر مبنی تعلقات قائم کرنے کے لیے تیار ہے۔ چین کے سرکاری میڈیا میں ابھی سے ایسی چہ مگوئیاں شروع ہوگئی ہیں کہ افغانستان بیجنگ حکومت کے بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو سے کس طرح مستفید ہو سکتا ہے۔ چین اپنے متنازع تعمیراتی منصوبے بی آر آئی کے تحت ایشیا سے یورپ تک سڑکیں، ریل، اور سمندری راستے بنانا چاہتا ہے۔اس سلسلے میں بنیاد اہمیت اگر گوادر کو حاصل ہے تو چہابار بھی کم اہمیت کا حامل نہیں ہے ۔ تاہم اس ان منصوبوں میں علاقائی سلامتی سے متعلق خدشات رکاوٹیں پیدا کرسکتے ہیں۔ اس کے باوجود اپنی کوششوں میں مصروف ہے جس کی زندہ مثال یہ کہ جب چین کی جانب سے ماضی قریب میں مال بردار ٹرین کا یورپ کی جانب سفر شروع ہوا تو چین کے اس مال بردار ٹرین نے افغانستان کے واحد ریلوے اسٹیشن تالقان پر قیام کیا تھا ۔ یہ تمام حقائق اپنی جگہ اس کے باوجود افغانستان طالبان رہنماوں کو اب بھی ملک کے معدنی ذخائر نکالنے کے لیے کئی مشکلات کا سامنا ہے۔کیونکہ اپنے تہیں تو وہ ملک میں کان کنی کا ایک موثر نظام قائم کرنے سے قاصر ہیں ۔ اس کے علاوہ سکیورٹی چیلنجز، ناقص قانونی نظام، اور بنیادی انفراسٹرکچر کی کمی جیسے مسائل سے نمٹنے کے لیے اسے غیر ملکی امداد اور پابندیوں کے خاتمے پر ان کا پر انحصار کرنا ہوگا۔ تاہم اس سلسلے میں خوش ائند بات یہ کہ اس وقت طالبان جہاں اپنے آپ کو تبدیل شکل میں پیش کرنے میں مصروف ہیں وہاں امریکا اور یورپ جو طالبان کے ساتھ تعلقات قائم کرنے کے حوالے سے مخمصے کا شکار تھے وہ مخمصہ ختم ہونے جارہا ہے ۔ کیونکہ وہ بھی افغانستان کو چین کے مکمل کنٹرول سے دور رکھنے کے لئے کوشاں نظر آرہے ہیں ۔جس کی بدولت افغانستان کتی بقاء و سلامتی محفوظ نظر آتی ہے ۔
Comments
Post a Comment