Zulfiqar Ali Bhutto... 40th Death Anniversary
ذوالفقار علی بھٹو
40ویں برسی
آج ملک پاکستان کی ہر شاہرا پر ہر شہر ہر گوٹھ گاؤں گلی محلہ بلکہ ہر گھر سے بھٹو بھٹو ہوتی ہوئی سنائی دے رہی
لوگ چل نکلے ہیں گھڑی خدا بخش کی طرف جہاں ایک ایسا لیڈر ابدی نیند سو رہا ہے جس نے ملکی غریب عوام کو گلے لگایا ملک کے مشہور کالLم نگار جاوید چوہدری کا ایک تجزیہ سنا تھا
کہ ساٹھ اور ستر کی دہائی میں دنیا کے بے شمار لیڈر سامنے آئے جن میں مصر کے سادات عراق کے صدام ملائشیا کے مہاتیر فلسطین کے یاسر عرفات لیبیا کے کرنل قزافی سعودی عرب کے شاہ فیصل جنوبی افریکا کے نیلسن منڈیلا کیوبیا فیڈرل کا سطول اور بہت سے نام جو اس دہائی میں دنیا کے سیاسی افق پر بھر پور چمک رہے تھے یہ سب اعلیٰ لیڈر تھے مگر ذوالفقار علی بھٹو ان سب کا لیڈر بھٹو صاحب غیر معمولی ذہین انکا حافظہ حبران۔کن۔تھا ایسا کہ چار چار سو پیج کی کتابیں اور تمام فائیل انہیں منہ زبانی یاد۔ہوتیں تھی وہ کھاتے کم تھے ان کی ذہانت کا کماال یہ کہ 1963 میں وزیر خارجہ کی حیثیت سے امریکہ کے دورے پر گئے صدر کنیڈی جو انکی ذہانت سے بہت زیادہ۔متاثر تھے اور بھٹو صاحب کو کہا کہ آپ اگر امریکن سٹیزن ہوتے تو آپ میری کیبنیٹکہ ممبر ہوتے تو بھٹو صاحب نے کہا کہ اگر میں امریکن۔سٹیزن ہوتا تو امریکہ کا صدر ہوتا صدر کنیڈی نے کہا آپ کو معلوم نہیں کہ آپ اسوقت دنیا کے سسب سے طاقت ور وائٹ ہاؤس میں کھڑے ہیں تو بھٹو صاحب نے پھر کہا جی ہاں وہ وہائئٹ ہاؤس اسوقت میری جوتی کے نیچے ہے
کنیڈی لاجواب ہوگئے
پیدا کہاں ہیں ایسے۔پر گندا طبع لوگ
افسوس کہ تم کو میر سے صحبت نہ رہی
تیس سال تک ہر لیڈر غریب ہوام کی بات کر تا آیا۔مگر کسی نے انکی حالت کو نہ بدلا بھٹو صاحب نے۔پیپلز پارٹی کا قیام کیا اور ملکی غریب عوام کے دکھوں دردوں کو گلے لگا لیا
اور یوں اس ملک غریب ہاری مزدور کسان کی قسمت بدلنے لگی ہر وہ چہرا جو صرف محکوم تھا اب ان کے چہروں پے مسکان آنے لگی اس ملک کی قسمت بدلنے لگی ملک تیزی سے ترقی کی راہ پر گامزن ہونے لگا ہر سمت خوشحالی ڈیرے جمانے لگی بس ملک ایٹمی قوت بن چکا تھا غریب اور امیر کا ایک واضع فرق دم توڑ چکا تھا
کہ اینٹی جمہوری قوتوں کو یہ سب برداشت نہ ہوا تو دنیاکے اس عظیم لیڈر کو ایک ہتھرادو کیس میں پھنسا لیا گیا اور یوں ایک غریب پرور رہنما پابند سلاسل کر دیا گیا بھٹو صاحب نے شاید اسی لئے دن۔رات۔محنت کی تھی کہ وہ جانتے تھے کہ میرا راستہ روک لیا جائے گا اور یوں ایک شہچادہ جیل کی کال کوٹھڑی میں اور پھر ایک دن۔اچانک بیگم نصرت بھٹو اور محترمہ بینظیر کو ملاقات کیلئے بلایا اور جیل کی سلاخوں سے بھٹو صاحب نے محترمہ شہید کو کہا کہ ایک قیدی باپ اپنی بیٹی کو سالگرہ پر کیا تحفہ دے سکتا ہے ہاں آج میں اس ملک کی غریب عوام کا ہاتھ تمہیں تحفے میں دیتا ہوں میری بیٹی یاد رکھنا ایک عام آدمی کی جنت اس کی ماں کے قدموں تلے ہوتی ہے مگر ایک سیاست دان کی جنت عوام کے قدموں تلے ہوتی ہے بس یہ آخری ملاقات تھی
اور پھر 4اپریل 1979کو عوام کے قائد کو تختہ دار پر جھولا کر ہمیشہ کیلئے جسمانی طور پر عوام سے دور کر دیا گیا
مگر لب تھم جانے سے اعلان نہیں مرتے
آج گو کہ 40سال گزر چکے ہیں اور لوگ جئیے بھٹو جئیے بھٹو کرتے ہوئے گڑھی خدابخش کیلئے روانہ ہو رہے ہیں اور آج بھی لوگ یہ کہتے ہوئے جا رہے ہیں کہ
ہر آنکھ سے آنسو بہتا ہے اور بہتے بہتے کہتا ہے تم کتنے بھٹو مارو گے ہر گھر سے بھٹو نکلے گا
40ویں برسی
آج ملک پاکستان کی ہر شاہرا پر ہر شہر ہر گوٹھ گاؤں گلی محلہ بلکہ ہر گھر سے بھٹو بھٹو ہوتی ہوئی سنائی دے رہی
لوگ چل نکلے ہیں گھڑی خدا بخش کی طرف جہاں ایک ایسا لیڈر ابدی نیند سو رہا ہے جس نے ملکی غریب عوام کو گلے لگایا ملک کے مشہور کالLم نگار جاوید چوہدری کا ایک تجزیہ سنا تھا
کہ ساٹھ اور ستر کی دہائی میں دنیا کے بے شمار لیڈر سامنے آئے جن میں مصر کے سادات عراق کے صدام ملائشیا کے مہاتیر فلسطین کے یاسر عرفات لیبیا کے کرنل قزافی سعودی عرب کے شاہ فیصل جنوبی افریکا کے نیلسن منڈیلا کیوبیا فیڈرل کا سطول اور بہت سے نام جو اس دہائی میں دنیا کے سیاسی افق پر بھر پور چمک رہے تھے یہ سب اعلیٰ لیڈر تھے مگر ذوالفقار علی بھٹو ان سب کا لیڈر بھٹو صاحب غیر معمولی ذہین انکا حافظہ حبران۔کن۔تھا ایسا کہ چار چار سو پیج کی کتابیں اور تمام فائیل انہیں منہ زبانی یاد۔ہوتیں تھی وہ کھاتے کم تھے ان کی ذہانت کا کماال یہ کہ 1963 میں وزیر خارجہ کی حیثیت سے امریکہ کے دورے پر گئے صدر کنیڈی جو انکی ذہانت سے بہت زیادہ۔متاثر تھے اور بھٹو صاحب کو کہا کہ آپ اگر امریکن سٹیزن ہوتے تو آپ میری کیبنیٹکہ ممبر ہوتے تو بھٹو صاحب نے کہا کہ اگر میں امریکن۔سٹیزن ہوتا تو امریکہ کا صدر ہوتا صدر کنیڈی نے کہا آپ کو معلوم نہیں کہ آپ اسوقت دنیا کے سسب سے طاقت ور وائٹ ہاؤس میں کھڑے ہیں تو بھٹو صاحب نے پھر کہا جی ہاں وہ وہائئٹ ہاؤس اسوقت میری جوتی کے نیچے ہے
کنیڈی لاجواب ہوگئے
پیدا کہاں ہیں ایسے۔پر گندا طبع لوگ
افسوس کہ تم کو میر سے صحبت نہ رہی
تیس سال تک ہر لیڈر غریب ہوام کی بات کر تا آیا۔مگر کسی نے انکی حالت کو نہ بدلا بھٹو صاحب نے۔پیپلز پارٹی کا قیام کیا اور ملکی غریب عوام کے دکھوں دردوں کو گلے لگا لیا
اور یوں اس ملک غریب ہاری مزدور کسان کی قسمت بدلنے لگی ہر وہ چہرا جو صرف محکوم تھا اب ان کے چہروں پے مسکان آنے لگی اس ملک کی قسمت بدلنے لگی ملک تیزی سے ترقی کی راہ پر گامزن ہونے لگا ہر سمت خوشحالی ڈیرے جمانے لگی بس ملک ایٹمی قوت بن چکا تھا غریب اور امیر کا ایک واضع فرق دم توڑ چکا تھا
کہ اینٹی جمہوری قوتوں کو یہ سب برداشت نہ ہوا تو دنیاکے اس عظیم لیڈر کو ایک ہتھرادو کیس میں پھنسا لیا گیا اور یوں ایک غریب پرور رہنما پابند سلاسل کر دیا گیا بھٹو صاحب نے شاید اسی لئے دن۔رات۔محنت کی تھی کہ وہ جانتے تھے کہ میرا راستہ روک لیا جائے گا اور یوں ایک شہچادہ جیل کی کال کوٹھڑی میں اور پھر ایک دن۔اچانک بیگم نصرت بھٹو اور محترمہ بینظیر کو ملاقات کیلئے بلایا اور جیل کی سلاخوں سے بھٹو صاحب نے محترمہ شہید کو کہا کہ ایک قیدی باپ اپنی بیٹی کو سالگرہ پر کیا تحفہ دے سکتا ہے ہاں آج میں اس ملک کی غریب عوام کا ہاتھ تمہیں تحفے میں دیتا ہوں میری بیٹی یاد رکھنا ایک عام آدمی کی جنت اس کی ماں کے قدموں تلے ہوتی ہے مگر ایک سیاست دان کی جنت عوام کے قدموں تلے ہوتی ہے بس یہ آخری ملاقات تھی
اور پھر 4اپریل 1979کو عوام کے قائد کو تختہ دار پر جھولا کر ہمیشہ کیلئے جسمانی طور پر عوام سے دور کر دیا گیا
مگر لب تھم جانے سے اعلان نہیں مرتے
آج گو کہ 40سال گزر چکے ہیں اور لوگ جئیے بھٹو جئیے بھٹو کرتے ہوئے گڑھی خدابخش کیلئے روانہ ہو رہے ہیں اور آج بھی لوگ یہ کہتے ہوئے جا رہے ہیں کہ
ہر آنکھ سے آنسو بہتا ہے اور بہتے بہتے کہتا ہے تم کتنے بھٹو مارو گے ہر گھر سے بھٹو نکلے گا
Comments
Post a Comment