Quality Education
*کوالٹی ایجوکیشن چاٸنہ اپنے پراٸمری اور سکینڈری سکول کےبچوں کو جنرل لیبر سکلز یعنی مزدوری کرنے کی مہارتیں جس میں میں گھر کے انتظام کے متعلق جیسا کہ صفاٸی کرنا، کھانا پکانا ، چیزوں کو منظم کرنے اور سٹور کرنے کے علاوہ ذرعی مہارتیں اور مینیوفیکچرنگ مہارتیں شامل ہیں سکھا رہا ہے۔*
*جسکا مقصد بچوں کو کتابی علم کے علاوہ مینول لیبر اور عملی کام کرنے کی ترغیب دینا شامل ہے ۔*
*اسی تعلیم کو دنیا کوالٹی ایجوکیشن کہتی ہے ۔*
*تصاویر میں دیکھا جا سکتا ہے بچے کھیتوں میں جاکر خود کام کر رہے ہیں تھریشر پر چاول نکال رہے ہیں کھانا پکانا سیکھ رہے ہیں فیکٹری میں کام کر رہے ہیں ۔*
*اس کے برعکس تیسری دنیا کے غریب ترین ملکوں میں شامل پاکستان یعنی ہمارے ہاں دیکھا جاۓ تو ہم کاہل اور ڈگری ہولڈر بے کار ترین نسل تیار کر رہے ہیں ۔*
*پڑھاٸی کرنے والے بچے کسی کام کو ہاتھ نہیں لگاتے نتیجہ کے طور پر ساری عمر بےکار ہی رہتے ہیں کاغذی ڈگری حاصل کر کے تعویذ بنا کر گلے میں لٹکا کر نوکری کیلئے پھرتے رہتے ہیں اگر نوکری نہ ملے تو مزدوری کرنے کو اپنی توہین سمجھتے ہیں آخر کار آعلیٰ تعلیم یافتہ ہونے کے زعم میں خودکشی کر لیتے ہیں۔*
*صفاٸی ایمان کا حصہ ہے مگر ارباب اختیار کے بنائے گئے قوانین کے تحت ہمارے سکولز میں بچوں سے اپنے ذاتی بینچ ، کلاس کی صفاٸی نہیں کراٸی جاسکتی*
*ان سے ایک دن کیلئے سوشل ورک کے طور پر پودوں کو پانی نہیں لگوايا جا سکتا ہے*
*ہمارے ہاں کوٸی عملی کام نہیں کرایا جات اور صرف رٹے لگواۓ جا رہے ہیں حتی کے پڑھے لکھے اور سمجھدار والدین بھی چاہتے ہیں کہ*
*بچوں کے نمبر 100/100 نہیں تو سو میں سے ننانولے ضرور آنے چاہیں بھلے وہ دنیاوی اور اخروی کسی بھی کام سے نابلد کیوں نہ رہ جاۓ*
*دنیا میں کوالٹی ایجوکیشن پر زور دیا جا رہا ہے مگر ہمارے ہماں نمبر اور ڈگریاں حاصل کرنے پرزور دیا جا رہا ہے ۔*
*رہی سہی کسر ہمارے اے سی کمرے میں بیٹھنے والے نیم انگریج بابوگان صاحبان نے غیر فطری و غیر معاشرتی قوانین بنا کر نکال دی ہے*
Comments
Post a Comment