Free & Fair Elections in Pakistan
1970ء
کے الیکشن کے بعد پاکستان میں کبھی بھی
free and fair
الیکش نہیں ہوئے.
اگر ہو جائیں تو بعد میں ان کے نتائج میں حسبِ ضرورت ردو بدل کر دیا جاتا ہے.
تاکہ من پسند افراد کو اقتدار منتقل کیا جا سکے.
یہی وجہ ہے کہ
پاکستان میں کبھی بھی جمہوری حکومت قائم نہیں ہو سکی.
بلکہ مل ملا کر
موزوں افراد کو اقتدار دے دیا جاتا ہے.
اس کھیل میں ملکی ترقی اور خوشحالی کو پس پشت ڈال کر صرف حکومت چلانے اور اپنے ذاتی مفادات کو پیش نظر رکھا جاتا رہا ہے.
اب تو یہ بات پوری دنیا کے ممالک کے سامنے عیاں ہو گئی ہے کہ
پاکستانی سیاست دانوں کو اپنے مفادات کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے.
کسی بھی ملک کی قیادت اپنے ملک اور اپنی home land
سے بے وفا نہیں ہوتی.
لیکن پاکستان کی گزشتہ تاریخ بتاتی ہے کہ
پاکستان کے صاحب اختیار سیاستدانوں نے قومی مفاد کا تحفظ نہیں کیا.
اس کے نتیجے میں 1948ء
میں ذوالفقار علی بھٹو کے والد
سر شاہ نواز بھٹو کی نا اہلی کی وجہ سے
جونا گڑھ و منادر جو پاکستان کی حصہ تھا.
اس پر انڈیا نے قبضہ کر لیا.
1971ء میں ہماری سیاسی قیادت کے غلط فیصلوں کی وجہ سے مشرقی پاکستان ہم سے علیحدہ ہو گیا.
جولائی 1977ء میں امریکہ کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے ایک منتخب جمہوری حکومت کا تختہ الٹ کر ملک میں مارشل لاء لگا دیا گیا.
جس کے بعد
ملک میں جاگیر داروں اور
ایک بزنس مین خاندان کے اقتدار کا سلسلہ شروع ہوا.
جو اب تک جاری ہے.
پاکستان میں سیاست دان بننے کے لئے کوئی خاص معیار مقرر نہیں ہے.
پھر الیکشن لڑنے کے لیے بہت ڈھیلے ڈھالے سے قواعد و ضوابط ہیں جن کے ہوتے ہوئے.
ہر وہ شخص الیکشن لڑ کر حکومت میں آ سکتا ہے جو سرمایہ دار یا جاگیر دار ہو.
آزادی سے پہلے
انگریزوں نے اپنے مفادات کے تحفظ کے لئے
کچھ لوگوں کو جاگیریں عطا کیں تاکہ وہ انگریزوں کے خلاف عوامی بغاوت پیدا نہ ہونے دیں.
اور بوقت ضرورت انگریز حکمران کو اپنی ذاتی فوج مہیا کریں.
اب آزادی کے بعد اس طرح کے جاگیرداروں کی کوئی ضرورت نہیں تھی.
بلکہ ان کی طاقت کو ختم کرنے کے لیے ان کی جاگیروں کو کاشتکاروں میں تقسیم کر دینا چاہیے تھا.
جیسا کہ انڈیا نے 1948ء میں کیا.
لیکن ہمارے ملک میں اس طبقے کو ختم نہیں کیا گیا.
بلکہ یہ ظالم اور جابر طبقہ ابھی تک عوام پر تسلط جما کر حکومت پر قابض ہے.
بار بار یہ ہی جاگیر دار
الیکشن لڑ کر اسمبلی میں پہنچ جاتے ہیں اور
ملک کے حکمران بن جاتے ہیں.
ملک کے لیے باہر سے قرضے لیتے ہیں ان قرضوں کا اکثر حصہ کرپشن کی صورت میں کھا پی جاتے ہیں اور ملک کے عوام پر قرضوں کا بوجھ ڈال دیتے ہیں.
دوسرے طبقے کے لوگ اربوں روپے صنعتی قرضوں کی صورت میں حاصل کرتے ہیں اور
چند سال بعد خود ہی اسمبلی میں بل پیش کر کے اپنے قرضے معاف کے لیتے ہیں.
ملک کی سلامتی اور ترقی کے لئے ضرورت اس امر کی ہے کہ ملک کی معاشی اور اقتصادی بقاء کے لیے ملک کے سیاسی اور معاشی نظام کو یکسر تبدیل کیا جائے.
Comments
Post a Comment