Talk Talk & Talk
ا قبال صاحب 40 سال بعد پاکستان واپس آئے اور یہ اسلام آباد میں رہائش پذیر ہو گئے تو ایک دن ان کے ایک دوست نے ان سے پوچھا ’’آپ پاکستان میں رہتے ہوئے امریکا‘ یورپ اور مڈل ایسٹ کی کون سی چیز مس کرتے ہیں‘‘ یہ مسکرا کر بولے ’’اچھی گفتگو‘‘- پوچھنے والے نے حیرت سے عرض کیا ’’کیا مطلب‘‘- یہ بولے ’’دنیا جہاں میں پڑھے لکھے لوگوں کے پاس گفتگو کے بے شمار موضوعات ہوتے ہیں, لیکن پاکستان میں ان پڑھ ہوں یا پڑھے لکھے ان کے پاس سیاست اور سکینڈلز کے علاوہ کوئی موضوع نہیں ہوتا‘- آپ جس بھی محفل میں بیٹھ جائیں اور کوئی بھی موضوع چھیڑ دیں وہ محفل چند منٹوں میں سیاست اور سیاست دانوں کے سکینڈلز میں تبدیل ہو جائے گی اور لوگ اس پر گھنٹوں گفتگو کرتے رہیں گے- دنیا بھر میں لوگ آئیڈیاز پر بات کرتے ہیں لیکن پاکستان میں ہر جگہ‘ ہر محفل میں شخصیات آئیڈیاز کی جگہ لے لیتی ہیں چناں چہ میں پاکستان میں اچھی گفتگو کومس کرتا ہوں‘‘۔
اقبال احمد نے آج سے 23 سال قبل ہمارے ملک کی نفسیاتی حالت پر کیا خوب صورت تبصرہ کیا تھا اور یہ صورت حال سوشل میڈیا اور واٹس ایپ سے پہلے کے پاکستان کی تھی- اللہ نے اقبال صاحب پر بڑا کرم کیا‘ یہ سوشل میڈیا کی ایجاد سے پہلے دنیا سے رخصت ہو گئے ورنہ یہ آج پاگل ہو کر سڑکوں پر پھر رہے ہوتے یا ایک بارپھر کیلی فورنیا میں کسی یونیورسٹی میں پڑھا رہے ہوتے‘ ہمارے ملک میں واقعی ’’اچھی گفتگو‘‘ کا خوف ناک قحط ہے‘ آپ ملک کے کسی حصے میں چلے جائیں‘ کسی فورم‘ کسی گروپ کا حصہ بن جائیں۔
آپ کو سیاسی افواہوں‘ سیاسی لطیفوں اور سیاسی گپ شپ کے علاوہ کچھ نہیں ملے گا اور آپ اگر کسی طرح سیاست سے جان چھڑا بھی لیں تو آپ مذہبی گفتگو میں گھر جائیں گے اور وہ ساری بات چیت بھی سیاسی گفتگو کی طرح غیر مصدقہ واقعات پر مشتمل ہو گی‘ہمارا پورا ملک بولنے کے خبط میں مبتلا ہے‘ آپ کہیں چلے جائیں آپ کو گونگے بھی آں آں آں کرتے ملیں گے‘ ہم میں سے ہر شخص روزانہ تین چار کروڑ لفظ بول کر سوتا ہے۔
بعض لوگوں کی اس میں بھی تسلی نہیں ہوتی چناں چہ یہ نیند میں بھی بڑبڑاتے رہتے ہیں لیکن آپ جب اس گفتگو کا عرق نکالتے ہیں تو اس میں سے شخصیت پرستی اور سیاست کے علاوہ کچھ نہیں نکلتا‘ میں نے مدت سے کوئی ایسا شخص نہیں دیکھا جو دوسرے کی سننا چاہتا ہو‘ ہم میں سے ہر شخص اندھا دھند بولنا چاہتا ہے اور یہ اس میں کوئی کسر نہیں چھوڑتا ‘ اس کی گفتگو میں سیاست اور مذہب کے علاوہ کچھ نہیں ہوتا اور یہ بھی سنی سنائی اور غیرمصدقہ باتیں ہوتی ہیں‘ میں سیلف ہیلپ کے سیشنز کرتا ہوں اور ہم ہر مہینے ٹورز لے کر باہر بھی جاتے ہیں‘ ہم ہر ٹور اور ہر سیشن کا واٹس ایپ گروپ بناتے ہیں‘ میں ہر بار لوگوں سے درخواست کرتا ہوں آپ پلیز اس گروپ میں فارورڈ میسجز نہ ڈالا کریں۔
آپ سیاسی اور مذہبی گفتگو بھی نہ کریں‘ بس اپنے ذاتی تجربات شیئر کریں لیکن آپ یقین کریں ہماری کوئی نہیں سنتا‘ صبح آنکھ کھلتی ہے تو سونے تک سیاسی اور مذہبی مواد کے علاوہ ان میں کچھ نہیں ہوتا‘ میں ہر ملنے والے سے پوچھتا ہوں ’’کیا آپ کتابیں پڑھتے ہیں‘‘ آپ یقین کریں یونیورسٹی کے پروفیسرز تک نہیں پڑھتے‘ لٹریچر کے پروفیسروں نے بھی کورس کے سوا کچھ نہیں پڑھا ہوتا‘ لوگ اپنے شہر سے دوسرے شہر تک نہیں جاتے اور فلم تو آج بھی حرام ہے‘ لوگ سارا دن سوشل میڈیا سے چپکے رہیں گے لیکن فلم حرام ہے۔
لہٰذا پھر نیا خیال نیا آئیڈیا کہاں سے آئے گا؟ ہم کیا گفتگو کریں گے! انسان بولنے والا جانور ہے‘ یہ اظہار کرتا ہے اور اظہار کے لیے آئیڈیاز چاہیے ہوتے ہیں اور آئیڈیاز کے لیے معلومات اور علم درکار ہوتا ہے اور علم اور معلومات کے لیے پڑھنا اور گھومنا اور گھومنے اور پڑھنے والے لوگوں کی صحبت میں بیٹھنا پڑتا ہے اور ہم یہ کرتے نہیں ہیں لہٰذا پھر ہم کیا سنیں گے اور کیا سنائیں گے‘ ہم کیا گفتگو کریں گے؟ چناں چہ اس کمی نے ہمارے معاشرے میں ایک بحران پیدا کر دیا ہے۔
اچھی گفتگو کا بحران‘ ملک میں دانشور لاکھوں ہیں لیکن صاحب دانش کوئی بھی نہیں اور ہم میں بولنے والے بھی کروڑوں ہیں لیکن گفتگو کسی کو نہیں آتی مگر ہم اس کے باوجود خود کو انسان بھی کہتے ہیں‘ کیا بات ہے!
Comments
Post a Comment