Kaamyab Pakistan

 *کامیاب پاکستان اور ایلیویٹڈ ایکسپریس وے*

ملک میں کامیاب پاکستان پروگرام کا آغاز کردیا گیا جس کے تحت ملک بھر میں 37 لاکھ گھرانوں کو 14سو ارب کے قرضے دیئے جائیں گے اس کی تفصیلات سے پہلے لاہور میں  ٹریفک کے بڑھتے ہوئے مسائل اور اس کے حل کے لیے پنجاب حکومت کے اقدامات پر نظر مارنا ضروری ہے کیونکہ اس وقت لاہور میں ٹریفک کا ایک نہ رکنے والا سلسلہ ہے لاہور کی کوئی ایک سڑک کسی حادثہ،جلوس یا مظاہرے کی وجہ سے بند ہوجائے تو پورا لاہور جام ہوجاتا ہے خاص کر مال روڈ،فیروز پور روڈ،جیل روڈ یا پھر ملتان روڈ بلاک ہوجائے تو گھنٹوں ٹریفک کے ہجوم میں کھڑا ہونا پڑتا ہے پنجاب حکومت ٹریفک کے اس نظام کو کنٹرول کرنے کے لیے بہت سے اقدامات اٹھا رہے ہیں  ٹریفک لاہور کا بہت بڑا مسئلہ ہے اور انہی مسائل کو حل کرنے کے لئے انڈر پاس اور اوورہیڈبرج بنائے جا رہے ہیں گلبرگ سے موٹروے ایم ٹو تک ایلیویٹڈ ایکسپریس وے بنائی جارہی ہے ایلیویٹڈ ایکسپریس وے کینال بینک روڈ،جیل روڈ، فیروز پور روڈ، ملتان روڈ، بند روڈ سے بابوصابو تک بنے گی اور اس سے لاہور کی تقریباً تمام بڑی سڑکیں منسلک ہوں گی ایکسپریس وے کے ساتھ بس کے لئے گزر گاہ بھی بنائی جائے گی اس منصوبہ کی تکمیل کے بعد لاہور کی مصروف سڑکوں پرٹریفک کے دباؤ میں 65فیصد تک کمی ہوگی اسکے ساتھ ساتھ لاہور میٹروبس کیلئے 64 نئی اور جدید بسوں کی سروس کا آغاز  بھی کردیا گیا ہے پنجاب حکومت نے اپنے دوسرے  منصوبوں کی طرح اس منصوبے میں  Veda کے ساتھ کنٹریکٹ کر کے مجموعی طورپر 2ارب روپے سے زائد کی بچت کی۔ میٹرو بس کاپرانا معاہدہ ایک غیر ملکی کمپنی کے ساتھ تھا  اور اب موجودہ ایگریمنٹ پاکستانی کمپنی کے ساتھ کیا گیا ہے اس معاہدے سے نہ صرف قیمتی زرمبادلہ بچے گا بلکہ مقامی کمپنیاں ترقی کریں گی  ماحولیاتی آلودگی کے خاتمے کے لیے لاہور میں الیکٹرک بسیں چلانے کا پراجیکٹ جلد آنے کی اُمید ہے پنجاب حکومت نے لاہور ٹرانسپورٹ کمپنی کے دائرہ کار کو وسیع کرتے ہوئے اسے پنجاب ٹرانسپورٹ کمپنی بنانے کی منظوری بھی دے دی ہے پنجاب ٹرانسپورٹ کمپنی کے تحت فیصل آباد، بہاولپور، میانوالی اور ڈیرہ غازی خان میں اربن ٹرانسپورٹ کی جدید ترین سہولت فراہم ہونگی  ٹھوکر نیاز بیگ پرعالمی معیار کے مطابق ماڈرن بس ٹرمینل 3ارب روپے کی لا گت سے تعمیر ہونے جارہا ہے پنجاب میں گذشتہ 3 سال میں ساڑھے 15 ہزار سے زائد پراجیکٹ کی تکمیل کی گئی جبکہ رواں مالی سال میں 3975 ترقیاتی منصوبے مکمل کئے جائیں گے جن میں سے 95 فیصد ترقیاتی منصوبوں کی منظوری دی جا چکی ہے حکومت نے پنجاب کی تاریخ میں پہلی بار جنوبی پنجاب کے لئے 35فیصد فنڈز مختص کئے ہیں  پنجاب مانیٹرنگ اینڈ اویلیوایشن پالیسی کا مسودہ بھی تیار کر لیا ہے پالیسی کے حتمی مسودہ کی منظوری پنجاب کابینہ دے گی پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ بورڈ سالانہ ترقیاتی پروگرام کے تحت 241 ارب روپے جاری کر چکا ہے  رہ گئی بات کامیاب پاکستان پروگرام کی اس سے پورے ملک سے37 لاکھ گھرانوں کو 14سو ارب کے قرضے دیئے جائیں گے چھوٹے کاروبار کیلئے 5 لاکھ تک بلاسود قرضے دیئے جائیں گے حکومت نے کامیاب پاکستان پروگرام کے پانچ جز رکھے ہیں جسکے زریعے کامیاب کسان کے ذریعے کسانوں کو بلا سود قرضے دئیے جائیں گے کامیاب کاروبار پروگرام کے تحت کاروبار کے لئے پانچ لاکھ تک بلا سود قرضے دئیے جائیں گے سستا گھر سکیم کے تحت اپنا گھر بنانے کے لئے آسان اقساط پر فنانسنگ کی سہولت میسر ہوگی  اور پہلے سے جاری سکالر شپ سکیم اور صحت انصاف کارڈ کو کامیاب پاکستان پروگرام کے ساتھ منسلک کردیا جائیگا ماضی میں متوسط طبقے کی آمدن کیلئے کچھ نہیں کیا گیا صرف باتیں کی گئی اور غریب صرف ترقی کے خواب ہی دیکھتا رہا، معاشی ترقی کیلئے معاشی پالیسیوں کا تسلسل ناگزیر ہے حکومت نے پہلی بار ترقی کے سفر میں نچلے طبقے کو ترجیح دی ہے جس کے لیے حکومت نے کامیاب ہنر مند پروگرام کا آغاز بھی کردیا ہے اب ہر گھر سے ایک فرد کو ٹیکنیکل ٹریننگ دی جائے گی جبکہ سست روی کا شکار کامیاب نوجوان پروگرام کو دو سال ہو گئے اور اب تک صرف دس ہزار لوگ اس سے مستفید ہو سکے اگر بڑے ادارے یا بینک قرض دیں بھی تو ان کا قرض دینے کا عمل بہت مشکل ہے اور واپسی کا عمل بھی ناممکن ہے اس کے برعکس چھوٹے مائیکرو فنانس ادارے اور این جی اوز جیسے اخوت اور این آر ایس پی کئی سالوں سے لوگوں کو قرض دے رہے ہیں جہاں واپسی کی شرح 99فیصد ہے کامیاب کاروبار پروگرام میں 3سال کیلئے 5لاکھ تک بلاسود قرض دیا جائے گا کامیاب کسان پروگرام میں کسانوں کی ایک فصل کیلئے ڈیڑھ لاکھ اور دو فصلوں کیلئے 3لاکھ بلا سود قرض فراہم کیا جائے گا 1400ارب روپیہ3 سے 5سالوں میں خرچ ہوگا جونچلے طبقے میں انقلاب لائے گا اور نچلا طبقہ اپنے پاؤں پر کھڑا ہو گا اگر یہ طبقہ اپنے پاؤں پر کھڑا ہوگیا تو یقین مانیں پاکستان اپنے پاؤں پر کھڑا ہوجائیگا اور پھر دنیا کی کوئی طاقت اس خوبصورت جنت کے ٹکڑے پاکستان کو ترقی یافتہ ممالک کی فہرست میں شامل ہونے سے روک نہیں سکتی ۔ کاش کے ایسا ہو سکے۔


*خوش رہیں اور خوشیاں بانٹیں*

Comments

Popular posts from this blog

All India Radio Vs Radio Pak

Pakistan Broadcasting Corporation policy and objectives