Khud Lazatey
*استمناء اور خود لذتی کے جرم سے بچنے کا طریقہ:*
*✍ تحریر: سید محمد حسن رضوی*
یات اہل بیت علیہم السلام میں صحیح السند احادی وارد ہوئی ہیں جن کے مطابق مرد اور عورت کے لیے خود لذتی یا استمناء کو اپنے آپ کے ساتھ زنا قرار دیا ہے اور اس کے حرام ہونے کی تاکید کی گئی ہے. آج کے دور میں نکاح کو مشکل بنا دئیے جانے کی بناء پر مسلم غیر مسلم کی اکثریت اس گناہ میں مبتلا ہے. خصوصا فحاشی کی کثرت، موبائل اور انٹرنیٹ کا منفی استعمال، شہوانی مناظر، برے دوستوں کی محافل اور ناقص خوراک جنسی بےراہ روی کا باعث بنتے ہیں. اس گناہ سے بچنے کا اصل حل تزکیہ نفس اور فی الفور جلد شادی کرنا ہے. شادی کے بعد بھی اصل حل تزکیہ نفس اور اپنے باطن کو نورانی معلومات سے بھرنا ہے ورنہ شادی کے بعد بھی فحش تصاویر و کلپس اور بدنظری جیسی لعنتوں سے چھٹکارا نہیں ملتا. البتہ زوجہ کا شوہر اور شوہر کا زوجہ کے ساتھ استمناء انجام دینا باہنی رضامندی کے ساتھ جائز ہے۔ میاں بیوی کے درمیان استمناء سے مراد ایک دوسرے کے ذریعے مادہ منی کو خارج کرنا ہے۔ البتہ اگر میاں بیوی ایک دوسرے سے جسمانی تعلق قائم کی بغیر استمناء کریں تو یہ بھی حرام ہے، مثلا شوہر بیرون ملک ہے وہ نیٹ پر زوجہ سے گفتگو کر کے یا اس کو تصور کر کے خود لذتی حاصل کرے تو یہ شرعی طور پر جائز نہیں، اسی طرح زوجہ کے لیے بھی شوہر سے جسمانی تعلق ایجاد کیے بغیر استمناء یا خود لذتی جائز نہیں۔*
*ذیل میں مرد اور خاتون ہر دو کے لیے اس گناہ سے بچنے کے لیے کچھ احتیاطی تدابیر بیان کی جا رہی ہیں جن پر عمل پیرا ہو کر اس گناہ سے چھٹکارا حاصل کیا جا سکتا ہے:*
1️⃣. تنہائی میں وقت نہ گزاریں، کیونکہ خلوت خیالات کے ابھرنے کا سبب ہیں اور جب خیال ابھر آئے تو نفس میں کھچاؤ اور بےجا اضطراب پیدا ہو جاتا ہے اور یہ اپنے آپ کو بےجا تکلیف دینا ہے. اس طرف توجہ رہنی چاہیے تنہائی میں خیالات جس جگہ سے اٹھتے ہیں وہ ہمارا باطن ہے اور باطن میں جو ہوتا ہے وہی خیال بن کر ابھرتا ہے. آج موبائل اور فحش ڈراموں فلموں نے معاشرے اور انسان کے باطن کو آلودہ کر دیا ہے. اس لیے باطن سے منفی خیال جنم لیتا ہے.
2️⃣. خوراک کم کھائیں اور گرم غذاؤں کا استعمال قلیل کریں، خصوصا ہمیشہ پیٹ کو بھرا رکھنے اور زیادہ کھانے سے اجتناب کریں.
3️⃣. نرم جگہ پر نہ سوئیں اور نہ سازگار ماحول میں رہیں، یعنی گرمیوں میں مکمل ٹھنڈک حاصل نہ کریں اور سردیوں میں مکمل گرمائش، کیونکہ جب جسم مکمل آرام میں آتا ہے تو جنسی غریزے جاگ جاتے ہیں. جسم کو ایک حد تک تکلیف میں رکھیں تو اس سے جنسی غریزے ابھرنے کے باوجود قوت اور شدت حاصل نہیں کر پائیں گے.
4️⃣. فحش منظر یا گفتگو یا لطیفے پڑھنے سے کامل اجتناب کریں اور یہ سب امور اور ان میں مبتلا ہونا فحاشی کو نشر کرنا ہے جوکہ بہت بڑا گناہ ہے.
5️⃣. نظریں جھکا کر رکھیں اور خیالات کو قابو کریں. خصوصا ایسی جگہ سے نہ گزریں جہاں نامحرم سے واسطہ پڑے، نہ تنہائی میں نامحرم یا کسی بچے کے ساتھ رہیں اور نہ کسی نامحرم سے بےجا گفتگو کریں.
6️⃣. جسمانی تھکاوٹ جب تک شدید نہ ہو اس وقت تک بستر پر نہ جائیں.
7️⃣. محفل کو پاکیزہ رکھیں اور برے دوستوں سے سختی کے ساتھ کنارہ کش ہوں. مسجد میں آنا جانا زیادہ ہونا چاہیے اگر وقت ملے اور زیادہ سے زیادہ ذکر الہی پڑھیں.
8️⃣. ذہن کو مثبت چیزوں میں مسلسل مشغول رکھنے والے کاموں میں مصروف رہیں، مثلا کائنات پر غور و فکر کرنا، دینی معلومات حاصل کرنا اور غور و فکر کرنا، عقلی علوم جیسے ریاضی، سائنس میں مشغول ہونا ہے.
9️⃣. جسم کو تھکا دینے والے امور انجام دئیے جائیں، مثلا ایکسرسائز اور ورزش کرنا، بازار کے کام پیدل کرنا وغیرہ
0️⃣1️⃣. استمناء کی ممانعت کی روایات اور اس کے برے نتائج کو بار بار ذہن میں دہراتے رہنا. خصوصا مراجع عظام کے فتاوی کہ یہ عمل گناہ اور حرام ہے اور یہ اللہ تعالی سے دور کرنے کا سبب ہے.
Comments
Post a Comment