All India Radio Vs Radio Pak
بھارت کی صوتی جارحیت کے سامنے ریڈیو پاکستان بے دست و پا کیوں؟ 27 مارچ 2012 ء کے روز ڈھاکہ کے بنگا بندھو انٹرنیشنل کانفرنس سینٹر میں دنیا بھر سے اُن شخصیات، ممالک اور اداروں کے نمائندوں کو اکٹھا کیا گیا۔ جنہوں نے پاکستان کو دولخت کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ اس تقریب میں آل انڈیا ریڈیو کو پاکستان کو تقسیم کرنے کی کوششوں کے شراکت دار ہونے کے اعتراف میں بنگلہ دیشی حکومت کی جانب سے سرکاری ایوارڈ دیا گیا۔ 48 سال قبل بھارت نے اپنے سرکاری ریڈیو کے ذریعے پاکستان کو دوحصوں میں تقسیم کرنے کی جس حکمت عملی پر کام کیا تھا آج وہ اُس حکمت عملی کو دوبارہ استعمال کرنے کی تیاریوں میں مصروف ہے۔اس حوالے سے بھارت آل انڈیا ریڈیو کے انفراسٹراکچر کو تیزی سے بڑھاتا اور ترقی دیتا جارہا ہے۔ جس کا اندازہ ان اعدادوشمار سے بخوبی لگایا جاسکتا ہے کہ 2017-18 میں آل انڈیا ریڈیو نے ملک میں 52 نئے ٹرانس میٹرز لگائے۔ اور 2016-17 سے2017-18 کے دوران 49 نئے اسٹیشنز قائم کئے۔جبکہ وہ پاکستان کی سرحد کے ساتھ نئے اور جدید طاقتور ٹرانس میٹرز کی تنصیب بھی کر رہا ہے۔ اس وقت پاکستان سے ملحقہ بھارت کی تین ریاستوں پنجاب،...

Comments
Post a Comment